Glory of the sea cone
The Glory of the Sea Cone is a sea snail with a striking shell, part of the cone snail family. It lives in the warm waters of the Pacific and Indian Oceans. It is special because collectors once thought it was the rarest shell in the world.1

اسے کیسے پہچانیں
- A relatively large, slender shell with a tall spire1
- Typical shell length is 8 to 12 cm, and it can reach 16 cm1
- A fine net-like pattern of orange-brown lines that enclose triangular spaces1
- Two or three bands of chestnut, hieroglyphic-like markings across the body1
- Tan colouring that can range from light golden to deep dark brown1
اکثر اس سے غلطی ہوتی ہے: It is sometimes confused with the common Textile cone, and it has a similarity to the Bengal cone.1
زہر کی طاقت
زہر ایک ڈنک سے باہر آتا ہے۔
یہ انسانوں کے لیے کتنا خطرناک ہے؟
انسانوں کے لیے خطرہ: سنگینڈنک پر ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے۔ موت بہت کم ہوتی ہے۔
اگر یہ ڈنک مارے
- دباؤ سے ساکت کرنا: کاٹی ہوئی جگہ پر اور پھر پورے بازو یا ٹانگ پر کس کر لچکدار پٹی لپیٹو، کھپچی لگاؤ، اور مدد آنے تک اس شخص کو بالکل ساکت رکھو۔
- نیلے چھلوں والا آکٹوپس یا مخروطی گھونگا انسان کی سانس روک سکتا ہے جبکہ وہ ابھی ہوش میں ہوتا ہے: مدد بلاؤ اور ایمبولینس آنے تک مصنوعی سانس دینے کے لیے تیار رہو۔
ہمیشہ پہلے اپنا ایمرجنسی نمبر (112، 000، 911) ملاؤ۔ یہ ابتدائی طبی امداد کی عام رہنمائی ہے، طبی مشورہ نہیں۔ ابتدائی طبی امداد کی بنیادی باتیں
محفوظ رہو
- کسی جنگلی جانور کو کبھی مت چھوؤ، پکڑو یا چھیڑو، چاہے وہ چھوٹا ہو، اور چاہے سویا ہوا یا مرا ہوا لگے۔
- اسے جگہ دو۔ اگر یہ ملے تو پرسکون رہو، آہستہ آہستہ پیچھے ہٹو اور اسے اپنے راستے جانے دو۔
- اگر یہ تمہیں ڈنک مارے: پرسکون رہو، ہلو مت، اپنا ایمرجنسی نمبر (112، 000، 911) ملاؤ یا جلدی ہسپتال پہنچو۔ یاد رکھو کہ یہ کیسا دکھتا تھا، تصویر مدد کرتی ہے۔
یہ تمہارے پیچھے نہیں پڑا۔ یہ اپنا زہر شکار پکڑنے یا اپنی حفاظت کے لیے استعمال کرتا ہے، اور چھپنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ محفوظ رہنے کے بارے میں مزید
دنیا میں کہاں؟
یہ کتنا بڑا ہے؟
یہ کتنا لمبا ہے؟
ایک قطار میں 5 کھلونا اینٹوں جتنا لمبا
باغ کے گھونگے سے بھی آہستہGlory of the sea cone تمہارے مقابلے میں کتنا بڑا ہے؟
بس تمہارے براؤزر میں تھوڑا حساب۔ کچھ بھی محفوظ یا کہیں بھیجا نہیں جاتا۔
یہ کتنا تیز ہے؟
حقائق
For about two centuries, this shell was regarded as the rarest shell in the world.1
Specimens were once valued in the thousands of U.S. dollars and were generally owned only by museums and wealthy private collectors.1
Today, shells can often be found from retailers or online auction sites for less than $100 U.S.1
Its habitat was not discovered until 1969.1
Improvements in diving technology, such as scuba, led to the discovery of far more shells.1
غلط فہمی توڑو
غلط فہمی: A collector bought one at auction in 1792 and destroyed it to keep the value of another one he owned.
سچ: This is an urban legend, a popular story that has spread among collectors. It is not an established fact.1
حقائق کہاں سے آتے ہیں
- Conus gloriamaris (Wikipedia (CC BY-SA 4.0))
- Conus gloriamaris (iNaturalist): نام اور درجہ بندی۔
- Venom Wiki: خطرے کی سطح، عام سائز اور رفتار کا اندازہ ہمارا اپنا ہے۔ دیکھو ہم انہیں کیسے نکالتے ہیں: ہم خطرہ کیسے ناپتے ہیں.
اس صفحے کی ہر حقیقت کے ساتھ ایک نمبر ہے جو اس کے ذریعے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر ہم سے کچھ غلط ہوا تو معاف کرنا، ہم جانوروں کے شوقین ہیں، کوئی سائنسی رسالہ نہیں۔ ہمیں [email protected] پر بتاؤ، ہم ٹھیک کر دیں گے۔
ڈنک