Venom Wiki
Violet carpenter bee کا کارٹون
نمبر 0946، کل 1 402 میں سے

Violet carpenter bee

Xylocopa violacea
نام کے بارے میں: The name 'carpenter bee' comes from the female boring tunnels in dead wood to make her nest.1
بے ضررانسانوں کے لیے بے ضرر۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔
انسانوں کے لیے خطرہ: ہلکاشہد کی مکھی کے ڈنک جتنا یا اس سے کم۔ انسانوں کے لیے تقریباً بے ضرر۔

The violet carpenter bee is one of the largest bees in Europe. It is also found across parts of Asia. It nests in dead wood, which is where the name 'carpenter bee' comes from.1

رہتا ہے
Europe and Asia, from Europe east across Asia to central China, above 30 degrees north. Also reported in Wales and England.1
یورپ, ایشیا
ہوم
It nests in dead wood, boring tunnels into it. Old nest tunnels may be reused. Adults hibernate in wood where abandoned nest tunnels are found.1
لمبائی
2.5 cm (1 in)3
عام بالغ کا سائز
سب سے تیز رفتار
تقریباً 30 کلومیٹر فی گھنٹہ (19 میل فی گھنٹہ)
اڑنا, موٹا اندازہ
سچ میں!Violet carpenter bee کی تصویر
Violet carpenter bee۔ تصویر: Thomas Bresson۔ CC BY 4.0, iNaturalist.

اسے کیسے پہچانیں

  • One of the largest bees in Europe1
  • Makes its nest in dead wood1
  • Adults emerge from hibernation in spring, usually around April or May1
  • In late spring or early summer, adults are seen searching for mates and nesting sites1

اکثر اس سے غلطی ہوتی ہے: In India, several all-black Xylocopa species are called 'bhanvra' (or 'bhomora' in Assamese). Sightings of these are often wrongly blamed on this species. This species is found only in the northern regions of Jammu and Kashmir and Punjab. Most sightings refer to other black carpenter bees, such as X. nasalis, X. tenuiscapa or X. tranquebarorum.1

زہر کی طاقت

ڈنک

زہر ایک ڈنک سے باہر آتا ہے۔

یہ انسانوں کے لیے کتنا خطرناک ہے؟

انسانوں کے لیے خطرہ: ہلکاشہد کی مکھی کے ڈنک جتنا یا اس سے کم۔ انسانوں کے لیے تقریباً بے ضرر۔

It is not particularly aggressive and will attack only if forced to.1

ڈرنے پر یہ کیا کرتا ہے؟

It will sting only if forced to.1

اگر یہ ڈنک مارے

  • شہد کی مکھی کا ڈنک کھرچ کر نکالو اور جگہ کو ٹھنڈا کرو۔
  • اگر اس شخص کو سانس لینے میں مشکل ہو، چہرہ یا گلا سوج جائے، یا بے ہوشی لگے، تو یہ الرجی کی ایمرجنسی ہے: اپنا ایمرجنسی نمبر ملاؤ اور اگر اس کے پاس ایڈرینالین پین ہے تو استعمال کرو۔

ہمیشہ پہلے اپنا ایمرجنسی نمبر (112، 000، 911) ملاؤ۔ یہ ابتدائی طبی امداد کی عام رہنمائی ہے، طبی مشورہ نہیں۔ ابتدائی طبی امداد کی بنیادی باتیں

محفوظ رہو

  • کسی جنگلی جانور کو کبھی مت چھوؤ، پکڑو یا چھیڑو، چاہے وہ چھوٹا ہو، اور چاہے سویا ہوا یا مرا ہوا لگے۔
  • اسے جگہ دو۔ اگر یہ ملے تو پرسکون رہو، آہستہ آہستہ پیچھے ہٹو اور اسے اپنے راستے جانے دو۔
  • اگر یہ تمہیں ڈنک مارے: پرسکون رہو، ہلو مت، اپنا ایمرجنسی نمبر (112، 000، 911) ملاؤ یا جلدی ہسپتال پہنچو۔ یاد رکھو کہ یہ کیسا دکھتا تھا، تصویر مدد کرتی ہے۔

یہ تمہارے پیچھے نہیں پڑا۔ یہ اپنا زہر شکار پکڑنے یا اپنی حفاظت کے لیے استعمال کرتا ہے، اور چھپنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ محفوظ رہنے کے بارے میں مزید

یہ کتنا بڑا ہے؟

یہ کتنا لمبا ہے؟

Violet carpenter bee تقریباً 2.5 cm لمبا (1 in)1 یورو کا سکہ تقریباً 2.3 cm (0.9 in)ایک پیپر کلپ تقریباً 3 cm (1.2 in)
تقریباً ایک پیپر کلپ جتنا لمبا13 سیکنڈ میں پورا فٹبال میدان اڑ کر پار کر سکتا ہے

Violet carpenter bee تمہارے مقابلے میں کتنا بڑا ہے؟

بس تمہارے براؤزر میں تھوڑا حساب۔ کچھ بھی محفوظ یا کہیں بھیجا نہیں جاتا۔

یہ کتنا تیز ہے؟

جاننے کے لائق

حقائق

1

It was found breeding in England for the first time in 2007, in Leicestershire.1

2

Its range has expanded north in France, Germany and the Channel Islands.1

3

Adults hibernate over winter in old nest tunnels.1

4

Like most carpenter bees, it nests in dead wood rather than in hives.1

5

The female creates her nest alone, as other solitary bees do.1

غلط فہمی توڑو

غلط فہمی: Every all-black carpenter bee in India is a violet carpenter bee, called 'bhanvra'.

سچ: This species is found only in the northern regions of Jammu and Kashmir and Punjab. Most black carpenter bees called bhanvra belong to other Xylocopa species.1

زہر کے ماہرین کے لیے

سائنسی نام
Xylocopa violacea
گروہ
شہد کی مکھیاں، بھڑیں اور ہارنیٹ
خاندان
Apidae2
ترتیب
Hymenoptera
براعظم
یورپ, ایشیا
بچے
The female builds the nest alone. She lays eggs in a series of small cells, each supplied with a pollen ball for the larva to feed on. Adults emerge in late summer and then hibernate until the following year.1
انسانوں کے لیے خطرہ
1 / 5: ہلکا3

حقائق کہاں سے آتے ہیں

  1. Xylocopa violacea (Wikipedia (CC BY-SA 4.0))
  2. Xylocopa violacea (iNaturalist): نام اور درجہ بندی۔
  3. Venom Wiki: خطرے کی سطح، عام سائز اور رفتار کا اندازہ ہمارا اپنا ہے۔ دیکھو ہم انہیں کیسے نکالتے ہیں: ہم خطرہ کیسے ناپتے ہیں.

اس صفحے کی ہر حقیقت کے ساتھ ایک نمبر ہے جو اس کے ذریعے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر ہم سے کچھ غلط ہوا تو معاف کرنا، ہم جانوروں کے شوقین ہیں، کوئی سائنسی رسالہ نہیں۔ ہمیں [email protected] پر بتاؤ، ہم ٹھیک کر دیں گے۔

بچھو بھوکا ہے! Venom Wiki ایک شخص کا منصوبہ ہے: مفت، بغیر اشتہار اور بغیر ٹریکر۔ ایک چھوٹی سی ٹپ اسے آن لائن رکھنے میں مدد کرتی ہے۔بچھو کو کھانا کھلاؤ

اسی گروہ کے مزید جانور: شہد کی مکھیاں، بھڑیں اور ہارنیٹ

یہاں بھی رہتا ہے: یورپ

بچھو کو کھانا کھلاؤٹپ جار، اسے مفت رکھتا ہے